کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: امام (حکمران) کو قتل کرنے یا اسے زخمی کرنے کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16017
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ يَعْنِي مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَى، ثنا الْفَزَارِيُّ يَعْنِي أَبَا إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " أَلَا وَإِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكُمْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، وَلَكِنْ بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَنَكُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ غَيْرُ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ فَأُقِصَّهُ مِنْهُ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَكُنْتَ مُقْتَصَّهُ مِنْهُ؟ فَقَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّهُ مِنْهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو فراس فرماتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! مجھے تمہاری طرف ایسا عامل نہیں بنایا گیا جو تمہارے لوگوں کو مارے اور تمہارا مال چھین لے۔ بلکہ مجھے تو اس لیے بھیجا گیا ہے کہ میں تمہیں تمہارا دین اور اس کی سنتیں سکھاؤں۔ اگر اس کے علاوہ میں کسی پر زیادتی کروں تو وہ مجھ سے قصاص کا مطالبہ کر سکتا ہے۔“ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمانے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اگر کوئی اپنی رعایا کو ادب سکھانے کے لیے مارے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا؟“ فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم! میں اس سے قصاص لوں گا؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے آپ سے قصاص دیا تھا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16017
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 16018
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قِرَاءَةً عَلَيْهِمَا، وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّرَاجُ إِمْلَاءً، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقْسِمُ شَيْئًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ ⦗٨٧⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَالَ فَاسْتَقِدْ " فَقَالَ: بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اور آپ کچھ اشیاء تقسیم کر رہے تھے، تو ایک آدمی آیا اور وہ جلد بازی کرنے لگا تو آپ نے اپنے کھجور کے ڈنڈے سے اسے مارا، جس سے اسے زخم لگ گیا، تو آپ نے فرمایا: ”قصاص لے لو۔“ تو وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے معاف کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16018
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 16019
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، وَغَيْرِهِ أَخْبَرُوهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُتَخَلِّقًا فَطَعَنَهُ بِقَدَحٍ كَانَ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ: " أَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْ مِثْلِ هَذَا؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ اللهَ قَدْ بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، وَإِنَّكَ قَدْ عَقَرْتَنِي فَأَلْقَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَقَالَ لَهُ: " اسْتَقِدْ "، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ طَعَنْتَنِي وَلَيْسَ عَلَيَّ ثَوْبٌ، وَعَلَيْكَ قَمِيصٌ، فَكَشَفَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَطْنِهِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَبَّلَهُ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
ابو النضر اور ان کے دوسرے اصحاب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا گیا کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے زعفران کی خوشبو لگائی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے اسے ایک لکڑی سے مارا اور فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا؟“ وہ شخص کہنے لگا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے مجھے زخم پہنچایا ہے، آپ ﷺ نے وہ لکڑی اسے دی اور فرمایا: ”قصاص لے لو۔“ وہ شخص کہنے لگا: آپ ﷺ نے جب مجھے مارا تھا مجھ پر کپڑا نہیں تھا، آپ ﷺ نے پیٹ سے اپنا کپڑا ہٹا لیا تو وہ شخص آپ ﷺ سے چمٹ گیا اور آپ ﷺ کا بوسہ لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16019
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 16020
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَوَادُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مُتَخَلِّقٌ بِخَلُوقٍ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لِي: " يَا سَوَادُ بْنَ عَمْرٍو وخَلُوقُ وَرْسٍ، أَوَ لَمْ أَنْهَ عَنِ الْخَلُوقِ؟ "، وَنَخَسَنِي بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ فِي بَطْنِي فَأَوْجَعَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ الْقِصَاصَ قَالَ: " الْقِصَاصَ" فَكَشَفَ لِي عَنْ بَطْنِهِ فَجَعَلْتُ أُقَبِّلُهُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَدَعُهُ شَفَاعَةً لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَابَعَهُ عُمَرُ بْنُ سَلِيطٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَوَادِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سواد بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے خلوق (خوشبو) لگائی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے سواد! کیا اس خلوق سے میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟“ تو آپ ﷺ نے ایک چھڑی سے مارا جو آپ کے ہاتھ میں تھی تو میرا پیٹ زخمی ہو گیا، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قصاص۔ آپ ﷺ نے بھی اپنا پیٹ کھول دیا تو میں آپ کے پیٹ پر بوسے لینے لگا، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں قیامت کے دن آپ کی شفاعت چاہتا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16020
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 16021
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ السَّعْدِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَجُلًا ضَاحِكًا مَلِيحًا قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَيُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُصْبُعِهِ فِي خَاصِرَتِهِ، فَقَالَ: أَوْجَعْتَنِي، قَالَ: " اقْتَصَّ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا، وَلَمْ يَكُنْ عَلَيَّ قَمِيصٌ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ فَاحْتَضَنَهُ، ثُمَّ جَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ أَرَدْتُ هَذَا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بڑے خوش طبع اور ہنس مکھ آدمی تھے۔ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے اور کسی قوم کے بارے میں باتیں کر کے آپ ﷺ کو ہنسا رہے تھے کہ آپ ﷺ نے ان کے پہلو میں انگلی ماری، تو وہ کہنے لگے: آپ نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قصاص لے لو۔“ تو وہ کہنے لگے: آپ نے قمیض پہنی ہوئی ہے اور مجھ پر قمیض نہیں ہے، تو آپ ﷺ نے اپنی قمیض اوپر اٹھائی تو وہ آپ ﷺ کے جسمِ اطہر سے چمٹ گئے اور اسے چومنے لگے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میرا یہی ارادہ تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16021
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 16022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ ⦗٨٨⦘ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلَاجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَةٍ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ، فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا "، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ: " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا "، فَلَمْ يَرْضَوْا، فَقَالَ: " لَكُمْ كَذَا وَكَذَا "، فَرَضُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي خَاطِبٌ الْعَشِيَّةَ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ " فَقَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ هَؤُلَاءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا، أَفَرَضِيتُمْ؟ " قَالُوا: لَا، فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُفُّوا عَنْهُمْ، فَكَفُّوا عَنْهُمْ، ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ فَقَالَ: " أَرَضِيتُمْ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ "، قَالُوا: نَعَمْ فَخَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَرَضِيتُمْ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ابو جہم کو صدقہ لینے کے لیے بھیجا۔ ایک شخص نے کچھ حیل و حجت کی تو ابو جہم نے اسے مارا اور زخمی کر دیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور قصاص کا مطالبہ کر دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم یہ یہ لے لو۔“ وہ نہ مانے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ یہ بھی لے لو۔“ وہ پھر بھی نہ مانے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ یہ بھی لے لو۔“ تو وہ راضی ہو گئے۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں شام کو لوگوں کو خطبہ دوں گا اور تمہاری رضا مندی کے بارے میں انہیں بتا دوں گا۔“ انہوں نے کہا: ”ٹھیک ہے۔“ آپ ﷺ نے شام کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”یہ لیثی لوگ میرے پاس قصاص کے لیے آئے تھے، میں نے انہیں اس اس کی پیش کش کی تو یہ راضی ہو گئے، کیا تم راضی ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ اس سے ان کی مراد مہاجرین تھے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے روک دو۔“ تو روک لیا گیا۔ پھر انہیں بلایا اور زیادہ دیا تو وہ راضی ہو گئے۔ آپ ﷺ نے پھر شام کو خطبہ ارشاد فرمایا اور انہیں ان کی رضا مندی کی اطلاع دی اور پوچھا: ”کیا تم راضی ہو؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، ہم راضی ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16022
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 16023
خَالَفَهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، فَرَوَاهُ كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ أَبَا جَهْمٍ عَلَى صَدَقَةٍ فَضَرَبَ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَشَجَّهُ ذَا الْمُغَلَّظَتَيْنِ، فَسَأَلُوهُ الْقَوَدَ، فَأَرْضَاهُمْ وَلَمْ يُقِدْ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو جہم رضی اللہ عنہ کو صدقہ پر عامل بنایا، تو انہوں نے بنو لیث کے ایک آدمی کو مارا اور اسے سخت زخمی کر دیا، تو انہوں نے قصاص کا مطالبہ کر دیا، تو آپ ﷺ نے انہیں دیت پر راضی کر لیا اور قصاص نہیں لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16023
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 16024
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ أَسْوَدُ يَأْتِي أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَيُدْنِيهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، حَتَّى بَعَثَ سَاعِيًا، أَوْ قَالَ: سَرِيَّةً، فَقَالَ: أَرْسِلْنِي مَعَهُ، قَالَ: بَلْ تَمْكُثُ عِنْدَنَا فَأَتَى فَأَرْسَلَهُ مَعَهُ وَاسْتَوْصَى بِهِ خَيْرًا، فَلَمْ يَغْبُرْ عَنْهُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى جَاءَ قَدْ قُطِعَتْ يَدُهُ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: مَا زِدْتُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُوَلِّينِي شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ فَخُنْتُهُ فَرِيضَةً وَاحِدَةً، فَقَطَعَ يَدِي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: تَجِدُونَ الَّذِي قَطَعَ هَذَا يَخُونُ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ فَرِيضَةً، وَاللهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأُقِيدَنَّكَ بِهِ قَالَ: ثُمَّ أَدْنَاهُ، وَلَمْ يُحَوِّلْ مَنْزِلَتَهُ الَّتِي كَانَتْ لَهُ مِنْهُ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ اللَّيْلَ فَيَقْرَأُ، فَإِذَا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَوْتَهُ قَالَ: يَا لَلَّهِ لِرَجُلٍ قَطَعَ هَذَا قَالَتْ: فَلَمْ يَغْبُرْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى فَقَدَ آلُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حُلِيًّا لَهُمْ وَمَتَاعًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: طُرِقَ الْحِيُّ اللَّيْلَةَ فَقَامَ الْأَقْطَعُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَهُ الصَّحِيحَةَ وَالْأُخْرَى الَّتِي ⦗٨٩⦘ قُطِعَتْ فَقَالَ: اللهُمَّ أَظْهِرْ عَلَى مَنْ سَرَقَهُمْ أَوْ نَحْوَ هَذَا وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ: اللهُمَّ أَظْهِرْ عَلَى مَنْ سَرَقَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِينَ قَالَ: فَمَا انْتَصَفَ النَّهَارُ حَتَّى عَثَرُوا عَلَى الْمَتَاعِ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَيْلَكَ إِنَّكَ لَقَلِيلُ الْعِلْمِ بِاللهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ قَالَ مَعْمَرٌ: وأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كَانَ إِذَا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتَهُ قَالَ: مَا لَيْلُكَ بِلَيْلِ سَارِقٍ وَالِاسْتِدْلَالُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ وَقَعَ بِقَوْلِهِ: وَاللهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأُقِيدَنَّكَ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک سیاہ رنگ کا آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آتا تھا، جو قرآن کا اچھا قاری تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے ایک سریہ میں بھیج دیا اور اسے خیر کی وصیت کی۔ ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ وہ شخص واپس آ گیا اور اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا؟ وہ کہنے لگا کہ مجھے کسی کام پر انہوں نے عامل بنا دیا تھا۔ میں نے اس میں سے تھوڑی سی خیانت کر دی تھی تو میرا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ایک خیانت پر تیرا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور خود ۲۰، ۲۰ خیانتیں کرتے ہیں۔ اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو میں تجھے اس سے ضرور قصاص لے کر دوں گا۔ پھر وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قریبی بن گیا اور آپ کی نظر میں اس کی قدر میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ آدمی رات کو قیام کرتا اور قرآن پڑھتا تھا۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی قرأت سنی تو کہنے لگے: ہائے افسوس! اس آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے کچھ زیورات اور سامان چوری ہو گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رات کو زندہ کرنے والا خاموش ہو گیا۔ تو وہ شخص کھڑا ہوا اور اپنا صحیح ہاتھ اور کٹا ہوا ہاتھ بلند کیا اور دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! چور کو ظاہر فرما دے۔ ابھی آدھا دن بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کے پاس سے سامان مل گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تو برباد ہو کہ کیا اللہ کے بارے میں تیرا علم اتنا تھوڑا ہے؟ اور حکم دیا اور اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا۔
معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے طریق سے بیان کیا کہ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی آواز کو سنا تو فرمایا: اے رات کو چوری کرنے والے! تیری رات چور کی ہے اور اس حدیث میں جو محل استشہاد ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو میں تجھے قصاص لے کر دوں گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16024
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 16025
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَعَافِرِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَامَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَالَ: " إِذَا كَانَ بِالْغَدَاةِ فَاحْضُرُوا صَدَقَاتِ الْإِبِلِ تُقْسَمُ، وَلَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ إِلَّا بِإِذْنٍ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: خُذْ هَذَا الْخِطَامَ لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُنَا جَمَلًا، فَأَبَى الرَّجُلُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْا قَدْ دَخَلُوا إِلَى الْإِبِلِ فَدَخَلَ مَعَهُمَا، فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: مَا أَدْخَلَكَ عَلَيْنَا؟ ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ الْخِطَامَ فَضَرَبَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ قَسْمِ الْإِبِلِ دَعَا بِالرَّجُلِ فَأَعْطَاهُ الْخِطَامَ وَقَالَ: اسْتَقِدْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: وَاللهِ لَا يَسْتَقِيدُ، لَا تَجْعَلْهَا سُنَّةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَمَنْ لِي مِنَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرْضِهِ فَأَمَرَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غُلَامَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ بِرَاحِلَتِهِ وَرَحْلِهَا وَقَطِيفَةٍ وَخَمْسَةِ دَنَانِيرَ، فَأَرْضَاهُ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ کل صدقہ کے اونٹ لے آنا تاکہ انہیں تقسیم کر دیا جائے اور بغیر اجازت ہمارے پاس کوئی نہ آئے۔ تو ایک عورت نے اپنے خاوند کو کہا کہ یہ لگام لو شاید کل اللہ ہمیں بھی کوئی اونٹ عطا فرما دے تو آدمی نے انکار کر دیا۔ جب دوسرے دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس شخص نے اونٹوں کے پاس داخل ہوتے دیکھا تو یہ بھی داخل ہو گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ اور اس سے لگام لے کر اسے مارا۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اونٹوں کی تقسیم سے فارغ ہو گئے تو اس شخص کو بلایا اور اسے لگام دے کر فرمایا: قصاص لے لو۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ اسے سنت نہ بنائیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کل قیامت کے دن اللہ سے کون بچائے گا؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ دیت پر راضی کر لو تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ اسے اپنی اور آپ کی سواری بھی دے دے، ایک چادر اور پانچ دینار بھی دے دے تو وہ شخص اس پر راضی ہو گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16025
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 16026
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، أَعْطَوَا الْقَوَدَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَلَمْ يُسْتَقَدْ مِنْهُمْ وَهُمْ سَلَاطِينُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے اپنے آپ کو قصاص کے لیے پیش فرمایا، لیکن آپ سے قصاص نہیں لیا گیا اور آپ اس وقت امیر تھے۔ لیکن زہری تک صحیح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16026
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ مرسل، زهري»
حدیث نمبر: 16027
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، أنبأ إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ ذَا صَوْتٍ وَنِكَايَةٍ عَلَى الْعَدُوِّ مَعَ أَبِي مُوسَى فَغَنِمُوا مَغْنَمًا فَأَعْطَاهُ أَبُو مُوسَى نَصِيبَهُ وَلَمْ يُوفِّهِ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ إِلَّا جَمِيعًا، فَضَرَبَهُ عِشْرِينَ سَوْطًا وَحَلَقَ رَأْسَهُ، فَجَمَعَ شَعْرَهُ وَذَهَبَ بِهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَرِيرٌ: " وَأَنَا أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْهُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْهُ، ⦗٩٠⦘ فَأَخْرَجَ شَعْرًا مِنْ جَيْبِهِ فَضَرَبَ بِهِ صَدْرَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا لَكَ؟ فَذَكَرَ قِصَّتَهُ قَالَ: فَكَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي مُوسَى: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ فُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ أَخْبَرَنِي بِكَذَا وَكَذَا، وَإِنِّي أُقْسِمُ عَلَيْكَ إِنْ كُنْتَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فِي مَلَأٍ مِنَ النَّاسِ جَلَسْتَ لَهُ فِي مَلَأٍ مِنَ النَّاسِ فَاقْتَصَّ مِنْكَ، وَإِنْ كُنْتَ فَعَلْتَ مَا فَعَلْتَ فِي خَلَاءٍ فَاقْعُدْ لَهُ فِي خَلَاءٍ فَلْيَقْتَصَّ مِنْكَ قَالَ لَهُ النَّاسُ: اعْفُ عَنْهُ، قَالَ: لَا وَاللهِ، لَا أَدَعُهُ لِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ فَلَمَّا دَفَعَ إِلَيْهِ الْكِتَابَ قَعَدَ لِلْقَصَاصِ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ قَالَ: قَدْ عَفَوْتُ عَنْهُ لِلَّهِ.
حافظ ثناء اللہ
جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص جو دشمنوں پر بہت رعب اور دبدبے والا تھا، وہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، غنیمت کا مال تقسیم ہوا تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے اس کا حصہ دے دیا لیکن پورا نہیں دیا۔ اس نے لینے سے انکار کر دیا اور پورے کا مطالبہ کیا تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے ۲۰ کوڑے مارے اور اس کا سر مونڈ دیا۔ وہ شخص اپنے بال لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا۔ اس نے وہ بال جیب سے نکالے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ تو اس نے سارا قصہ سنایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا: «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد! مجھے فلاں بن فلاں نے اس طرح خبر دی ہے تو میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ اگر آپ نے اس کے ساتھ یہ سلوک لوگوں کے سامنے کیا ہے تو لوگوں کے سامنے، اگر اکیلے میں کیا ہے تو اکیلے میں اسے قصاص دو۔“ تو لوگ اس شخص کو کہنے لگے: ”معاف کر دو۔“ تو وہ کہنے لگا: ”ہرگز نہیں، اللہ کی قسم!“ جب سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو اس نے خط دیا تو آپ رضی اللہ عنہ قصاص کے لیے بیٹھ گئے تو اس نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہنے لگا: ”میں نے اللہ کے لیے معاف کر دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16027
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»