حدیث نمبر: 16015
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، فَذَكَرَ قِصَّتَهُ، قَالَ: فَصَنَعَ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ قَالَ: فَشَحَذَهُ وَسَمَّهُ وَقَالَ: وَكَبَّرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ لَا يُكَبِّرُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ حَتَّى يَتَكَلَّمَ ⦗٨٦⦘ وَيَقُولَ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ فَجَاءَ فَقَامَ فِي الصَّفِّ بِحِذَائِهِ ممَّا يَلِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ عَلَى كَتِفِهِ، وَعَلَى مَكَانٍ آخَرَ، وَفِي خَاصِرَتِهِ، فَسَقَطَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَوَجَأَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا مَعَهُ، فَأَفْرَقَ مِنْهُمْ سَبْعَةً وَمَاتَ سِتَّةٌ، وَاحْتُمِلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذُهِبَ بِهِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَدَعَا بِشَرَابٍ لَيَنْظُرَ مَا مَدَى جُرْحِهِ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ، فَلَمْ يدْرِ أَدَمٌ هُوَ أَوْ نَبِيذٌ، فَدَعَا بِلَبَنٍ فَأُتِيَ بِهِ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ قَالُوا: لَا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: إِنْ يَكُنِ الْقَتْلُ بَأْسًا فَقَدْ قُتِلْتُ.
حافظ ثناء اللہ

ابو رافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو لؤلؤ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، پھر مکمل قصہ بیان فرمایا اور فرمایا کہ اس نے دو دھاری خنجر تیار کیا اور اسے زہر آلود کیا۔ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد کچھ بولتے، پھر تکبیر کہا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اپنی صفیں سیدھی کرلو۔ تو وہ وہیں صف میں کھڑا تھا، جب آپ رضی اللہ عنہ نے نمازِ فجر کے لیے تکبیر کہی تو اس نے آپ پر حملہ کر دیا، آپ کے کندھے اور آپ کے پہلو کو زخمی کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے، اس نے 13 (تیرہ) لوگوں کو اور زخمی کیا جن میں سے 6 (چھ) فوت ہو گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھایا گیا اور لے کر چلے گئے۔ پھر لمبی حدیث بیان کی۔ فرماتے ہیں: پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کچھ پینے کے لیے منگایا تاکہ اپنے زخم کی گہرائی دیکھیں۔ نبیذ لایا گیا تو وہ آپ کے زخم سے نکل گیا۔ پتہ نہیں وہ نبیذ تھا یا آپ کا خون۔ پھر دودھ منگایا وہ پیا تو وہ بھی آپ کے زخم سے بہہ کر نکل گیا۔ تو لوگ کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! فکر نہ کریں، کچھ نہیں ہوتا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر قتل میں کوئی حرج ہے تو میں تو قتل کر دیا گیا ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 16015
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»