حدیث نمبر: 15971
فَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ مَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ فُقَهَائِنَا الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْهُمْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَخَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، فِي مَشْيَخَةٍ جُلَّةُ سِوَاهُمْ مِنْ نُظَرَائِهِمْ أَهْلُ فِقْهٍ وَفَضْلٍ، وَرُبَّمَا اخْتَلَفُوا فِي الشَّيْءِ فَأَخَذْنَا بِقَوْلِ أَكْثَرِهِمْ وَأَفْضَلِهِمْ رَأْيًا وَكَانَ الَّذِي وَعَيْتُ عَنْهُمْ عَلَى هَذِهِ الْقِصَّةِ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: الْمَرْأَةُ تُقَادُ مِنَ الرَّجُلِ عَيْنًا بِعَيْنٍ، وَأُذُنًا بِأُذُنٍ، وَكُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْجِرَاحِ عَلَى ذَلِكَ، وَإِنْ قَتَلَهَا قُتِلَ بِهَا " وَرُوِّينَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمٰن بن ابی الزناد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایسے ایسے فقہاء کرام سے ملاقات کی ہے کہ جن کی بات حرفِ آخر سمجھی جاتی تھی، ان میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ، عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، قاسم بن محمد رحمہ اللہ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ، خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ، سلیمان بن یسار رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ بڑے جلیل القدر اہل علم ہیں۔ بعض اوقات ان سب میں اختلاف ہو جاتا تو ہم جس طرف اکثریت ہوتی ان کی بات کو لے لیتے۔ ان سے میں نے یہ بات یاد کی کہ یہ کہتے تھے کہ مرد کو قصاصاً عورت کے بدلے قتل کیا جائے گا اور اگر کوئی زخم دیتا ہے تو مرد کو وہ زخم دیا جائے گا۔
سفیان ثوری رحمہ اللہ، مغیرہ سے اور وہ ابراہیم رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ قتلِ عمد میں مرد و عورت کے درمیان بھی قصاص ہے۔
جابر عن شعبی رحمہ اللہ بھی اسی طرح منقول ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15971
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»