السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: القود بين الرجال والنساء، وبين العبيد فيما دون النفس باب: جان کے علاوہ دیگر اعضاء کے تلف کرنے میں مردوں اور عورتوں، نیز غلاموں کے درمیان قصاص کا بیان۔
حدیث نمبر: 15970
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ السُّنَّةَ مَضَتْ فِيمَا بَلَغَهُ بِذَلِكَ: إِذَا كَانَا حُرَّيْنِ، يَعْنِي الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةَ، فَإِنْ فَقَأَ عَيْنَهَا فُقِئَتْ عَيْنُهُ قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مِثْلُ ذَلِكَ، أَنَّهُ يُقْتَلُ بِهَا وَيُقْتَصُّ مِنْهُ وَأَمَّا الرِّوَايَةُ فِيهِ عَنِ التَّابِعِينَ.حافظ ثناء اللہ
بکیر بن اشج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ ”آزاد چاہے مرد ہو یا عورت دونوں کا خون برابر ہے۔ اگر ایک عورت کی آنکھ پھوڑ دی جائے تو بدلے میں اس مرد کی بھی آنکھ پھوڑی جائے گی“ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ”عورت کے بدلے مرد قتل کیا جائے گا، اس سے قصاص لیا جائے گا“۔