السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: فيمن لا قصاص بينه باختلاف الدينين باب: ان افراد کا بیان جن کے درمیان اختلافِ دین کے سبب قصاص نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 15913
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سُوَاهُمْ يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّعُهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " وَأَمَّا حَدِيثُ عِمْرَانَ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مومنوں کے خون آپس میں برابر ہیں، ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے اور ان کا دور والا بھی ان کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے، ان کی ان کے غیروں پر مدد کی جائے گی، ان کا طاقتور ان کے کمزور کو (غنیمت) لوٹائے گا اور آگے بڑھ کر لڑنے والا پیچھے بیٹھنے والے کو، کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی عہد والے کو اس کے عہد کے دوران۔“