السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: فيمن لا قصاص بينه باختلاف الدينين باب: ان افراد کا بیان جن کے درمیان اختلافِ دین کے سبب قصاص نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 15912
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ. ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، يَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، تُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدَتِهِمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُؤْمِنِ، لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ " لَفْظُ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ والے سال خطبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! جو جاہلیت میں ایک دوسرے کے حلیف تھے تو اسلام میں حلفیت ختم، اب مسلمانوں کی ہی دوسروں کے مقابلے میں مدد کی جائے گی، ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، کافر کی دیت مومن کی نصف دیت کے برابر ہے، نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ، اور ان کے صدقات نہ لیے جائیں مگر ان کے گھروں میں ہی۔“