کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان افراد کا بیان جن کے درمیان اختلافِ دین کے سبب قصاص نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 15907
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ شَيْبَانَ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ، سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ لَا، وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا أَنْ يُعْطِيَ اللهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ. قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ:: " الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ "،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا، اور ابن شیبان کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کیا آپ کے پاس اللہ کے نبی ﷺ سے قرآن کے علاوہ اور کچھ ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، اور قسم ہے اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتا ہے اور مخلوق کو پیدا کرتا ہے، ہاں جو اللہ نے کتاب اللہ کا اپنے بندے کو فہم دیا ہے اور جو کچھ صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا: صحیفہ میں کیا لکھا ہے؟ فرمایا: ”دیت، قیدیوں کو آزاد کرنا اور یہ بھی کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15907
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 15908
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15908
حدیث نمبر: 15909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ زُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنَ الْوَحْيِ شَيْءٌ؟ قَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا أَعْلَمُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ. قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: " الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِمُشْرِكٍ ". قَالَ زُهَيْرٌ: فَقُلْتُ لِمُطَرِّفٍ: وَمَا فِكَاكُ الْأَسِيرِ؟ قَالَ: أَنْ يُفَكَّ مِنَ الْعَدُوِّ، جَرَتْ بِذَلِكَ السُّنَّةُ. وَقَالَ مُطَرِّفٌ: الْعَقْلُ الْمَعْقُلَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا وحی میں سے آپ کے پاس کچھ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔ قسم ہے دانے کو پھاڑنے والی اور مخلوق کو پیدا کرنے والی ذات کی! میں قرآن کے اس فہم کے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو دیا، اور اس صحیفے سے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔“ میں نے کہا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”دیت، قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور یہ کہ مومن کو مشرک کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“
زہیر کہتے ہیں: میں نے مطرف سے پوچھا: «فَكَاكُ الْأَسِيرِ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ دشمنوں کے قیدیوں کو چھوڑنا اور یہ سنت سے جاری ہے، اور مطرف نے مزید فرمایا کہ «الْعَقْلُ» سے مراد ”دیت“ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15909
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15910
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: أَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَا وَجَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ السَّعْدِيُّ، فَقُلْنَا: هَلْ مَعَكَ عَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا مَا فِي قِرَابِ سَيْفِي. فَأَخْرَجَ لَنَا مِنْهُ كِتَابًا فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ: " الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، أَلَا لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ إِلَّا مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن عباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور میرے ساتھ جاریہ بن قدامہ سعدی رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے پوچھا: کیا آپ کے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کوئی عہد نامہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں۔ صرف یہ میری تلوار کی میان ہے، پھر اس سے ایک خط نکالا اور اس کو پڑھا اس میں لکھا تھا کہ: ”مسلمانوں کے خون آپس میں برابر ہیں اور ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر رہے اور ان کی ان کے علاوہ پر مدد بھی کی جائے گی، خبردار! کسی کافر کے بدلے کسی مسلمان کو نہ قتل کرنا اور بدعات سے بچنا، جس نے کوئی نیا طریقہ رائج کیا اس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ، فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15910
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، أَحْسَبُهُ قَالَ: وَمُجَاهِدٍ، وَالْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ: " لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا عَامٌّ عِنْدَ أَهْلِ الْمَغَازِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَكَلَّمَ بِهِ فِي خُطْبَتِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْنَدًا مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ وَحَدِيثِ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا حَدِيثُ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
حسن بصری رحمہ اللہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فتحِ مکہ کے دن ارشاد فرمایا: ”کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15911
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ و له شواهد كثيرة صحيحة»
حدیث نمبر: 15912
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ. ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَامَ الْفَتْحِ فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، يَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، تُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدَتِهِمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُؤْمِنِ، لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ " لَفْظُ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ والے سال خطبہ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! جو جاہلیت میں ایک دوسرے کے حلیف تھے تو اسلام میں حلفیت ختم، اب مسلمانوں کی ہی دوسروں کے مقابلے میں مدد کی جائے گی، ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے، کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، کافر کی دیت مومن کی نصف دیت کے برابر ہے، نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ، اور ان کے صدقات نہ لیے جائیں مگر ان کے گھروں میں ہی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15912
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 15913
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَ‍يْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُسْلِمُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سُوَاهُمْ يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّعُهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ " وَأَمَّا حَدِيثُ عِمْرَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مومنوں کے خون آپس میں برابر ہیں، ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے اور ان کا کم تر بھی امیر ہے، ان کی ان کے غیروں پر مدد کی جائے گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15913
حدیث نمبر: 15914
فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ خُرَيْنِقَ بِنْتِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَخِيهَا، عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ: " أَلَمْ تَرَ إِلَى ⦗٥٥⦘ مَا صَنَعَ صَاحِبُكُمْ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ؟ لَوْ قَتَلْتُ مُؤْمِنًا بِكَافِرٍ لَقَتَلْتُهُ فَدُوهُ "، فَوَدَيْنَاهُ وَبَنُو مُدْلِجٍ مَعَنَا، فَجَاءُوا بِغَنَمٍ عُفْرٍ لَمْ أَرَ أحْسَنَ مِنْهَا أَلْوَانًا. وَكَانَتْ بَنُو مُدْلِجٍ حُلَفَاءَ بَنِي كَعْبٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. وَرَوَاهُ أَيْضًا الْوَاقِدِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: خِرَاشُ بْنُ أُمَيَّةَ، بَدَلَ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ، وَلَمْ يذْكُرِ الدِّيَةَ وَمَا بَعْدَهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تمہارے صاحب ہلال بن امیہ نے کیا کیا؟ اگر مومن کو کافر کے بدلے قتل کیا جاتا تو میں کر دیتا، فدیہ دے دو۔“ ہم نے انھیں فدیہ دے دیا۔ بنو مدلج ہمارے ساتھ تھے، تو وہ بڑی خوبصورت بکریاں لائے کہ ایسی خوش رنگ ہم نے پہلے نہیں دیکھی تھیں اور بنو مدلج جاہلیت میں بنو کعب کے حلیف تھے۔
ایک دوسری روایت میں ہلال بن امیہ کی جگہ خراش بن امیہ کا ذکر ہے اور اس میں دیت اور اس کے بعد والی بات کا ذکر نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15914
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15915
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا ابْنُ مَوْهِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: وُجِدَ فِي قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَانِ فَذَكَرَ أَحَدَهُمَا، قَالَ: وَفِي الْآخَرِ: " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ، وَلَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ". ابْنُ مَوْهَبٍ هُوَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَمَالِكٌ هُوَ ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، وَأَبُو الرِّجَالِ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُهُ مَالِكٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی میان سے دو خط ملے، جن میں سے ایک میں یہ لکھا تھا کہ ”مومنوں کے خون برابر ہیں اور ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر ہے اور کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور کافر مسلمان اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہے۔ پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی ایک نکاح میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں، عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔ تین راتوں یا اس سے زیادہ سفر عورت محرم کے بغیر نہیں کر سکتی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15915
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15916
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَمْرُو بْنُ سِنَانٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ أَبِي الْجَنُوبِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ذمی عہد میں، اور مسلمان ان کے غیروں پر مدد کیے جائیں، ان کے خون برابر ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15916
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»