حدیث نمبر: 15910
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ: أَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَا وَجَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ السَّعْدِيُّ، فَقُلْنَا: هَلْ مَعَكَ عَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا مَا فِي قِرَابِ سَيْفِي. فَأَخْرَجَ لَنَا مِنْهُ كِتَابًا فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ: " الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، أَلَا لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ إِلَّا مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
حافظ ثناء اللہ

قیس بن عباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور میرے ساتھ جاریہ بن قدامہ سعدی رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے پوچھا: کیا آپ کے پاس رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کوئی عہد نامہ ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں۔ صرف یہ میری تلوار کی میان ہے، پھر اس سے ایک خط نکالا اور اس کو پڑھا اس میں لکھا تھا کہ: ”مسلمانوں کے خون آپس میں برابر ہیں اور ان کے ادنیٰ کا ذمہ بھی معتبر رہے اور ان کی ان کے علاوہ پر مدد بھی کی جائے گی، خبردار! کسی کافر کے بدلے کسی مسلمان کو نہ قتل کرنا اور بدعات سے بچنا، جس نے کوئی نیا طریقہ رائج کیا اس پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ، فرشتے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15910
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»