السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: فيمن لا قصاص بينه باختلاف الدينين باب: ان افراد کا بیان جن کے درمیان اختلافِ دین کے سبب قصاص نہیں ہوتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ زُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنَ الْوَحْيِ شَيْءٌ؟ قَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا أَعْلَمُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ. قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: " الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِمُشْرِكٍ ". قَالَ زُهَيْرٌ: فَقُلْتُ لِمُطَرِّفٍ: وَمَا فِكَاكُ الْأَسِيرِ؟ قَالَ: أَنْ يُفَكَّ مِنَ الْعَدُوِّ، جَرَتْ بِذَلِكَ السُّنَّةُ. وَقَالَ مُطَرِّفٌ: الْعَقْلُ الْمَعْقُلَةُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، عَنْ زُهَيْرٍ.سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا وحی میں سے آپ کے پاس کچھ ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔ قسم ہے دانے کو پھاڑنے والی اور مخلوق کو پیدا کرنے والی ذات کی! میں قرآن کے اس فہم کے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو دیا، اور اس صحیفے سے زیادہ کچھ نہیں جانتا۔“ میں نے کہا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”دیت، قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور یہ کہ مومن کو مشرک کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔“
زہیر کہتے ہیں: میں نے مطرف سے پوچھا: «فَكَاكُ الْأَسِيرِ» کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ دشمنوں کے قیدیوں کو چھوڑنا اور یہ سنت سے جاری ہے، اور مطرف نے مزید فرمایا کہ «الْعَقْلُ» سے مراد ”دیت“ ہے۔