السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه -- باب: أصل تحريم القتل في القرآن باب: قتل کی حرمت، اور جن پر قصاص واجب ہوتا ہے اور جن پر نہیں ہوتا، ان کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قرآن مجید میں قتل کی حرمت کی اصل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ إِسْحَاقُ: أنبأ وَقَالَ الْآخَرَانِ: ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَا. فَقَتَلَهُ فَكَمَّلَ بِهَ مِائَةً، ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ عَالِمٍ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: قَتَلَ مِائَةَ ⦗٣٢⦘ نَفْسٍ، فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ، انْطَلِقْ إِلَى أَرْضِ كَذَا وَكَذَا، فَإِنَّ بِهَا نَاسًا يَعْبُدُونَ اللهَ، فَاعْبُدْ مَعَهُمْ، وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ، فَإِنَّهَا أَرْضُ سُوءٍ، فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا أَتَى نِصْفَ الطَّرِيقِ أَتَاهُ الْمَوْتُ، فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ: جَاءَ تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ. وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ: إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ. فَأَتَاهُمْ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ، فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: قِيسُوا مَا بَيْنَ الْأَرَضِينَ، فَإِلَى أَيِّهَا كَانَ أَدْنَى فَهُوَ لَهُ، فَقَاسُوا، فَوَجَدُوهُ أَدْنَى إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ، فَقَبَضَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ ". قَالَ قَتَادَةُ: فَقَالَ الْحَسَنُ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَوْتُ نَاءَ بِصَدْرِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى، وَمُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پہلی امتوں میں ایک شخص تھا، جس نے ٩٩ ننانوے قتل کیے تھے۔ وہ لوگوں سے پوچھ کر ایک راہب کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے ٩٩ قتل کیے ہیں۔ کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ راہب نے کہا: نہیں۔ تو اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور سو قتل پورے کر دیے۔ پھر اس نے لوگوں سے کسی اچھے عالم کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتا دیا۔ وہ شخص اس عالم کے پاس آیا اور پوچھا کہ میں نے ١٠٠ سو قتل کیے ہیں کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ تو اس نے جواب دیا: ہاں، تم ایسا کرو فلاں علاقہ میں چلے جاؤ وہاں نیک لوگ رہتے ہیں ان کے ساتھ مل کر عبادت کرو، یہاں واپس نہ آنا؛ کیونکہ یہ فتنوں کی سر زمین ہے۔ وہ شخص روانہ ہوا اور ابھی نصف راستہ ہی طے کیا تھا کہ موت نے آ لیا تو رحمت اور عذاب کے فرشتوں میں اختلاف ہو گیا۔ رحمت کے فرشتے کہنے لگے: یہ دل سے اللہ کے حضور توبہ کرنے نکلا تھا۔ عذاب کے فرشتے کہنے لگے: اس نے کبھی کوئی نیک عمل کیا ہی نہیں۔ ایک فرشتہ آدمی کی شکل میں آیا اور وہ کہنے لگا: زمین ناپ لو جس طرف فاصلہ کم ہو وہ لے جائیں، زمین ناپی گئی تو رحمت والے فرشتوں کے حق میں فیصلہ ہو گیا اور وہ اسے لے گئے۔“
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب اس کو موت آئی تو وہ دل سے بخشش کا طلب گار تھا۔