السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه -- باب: أصل تحريم القتل في القرآن باب: قتل کی حرمت، اور جن پر قصاص واجب ہوتا ہے اور جن پر نہیں ہوتا، ان کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قرآن مجید میں قتل کی حرمت کی اصل کا بیان۔
حدیث نمبر: 15837
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، فَهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر نبی کی دعا ضرور قبول ہونے والی ہوتی ہے، میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن کے لیے بچا کر رکھا ہوا ہے جس کے ساتھ میں سفارش کروں گا اور یہ میری امت کے ہر فرد کو حاصل ہو گی، سوائے مشرک کے۔“