❮
❯
حدیث نمبر: 15835
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنَعَةٍ، قَالَ: حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَتَى ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللهُ لِلْأَنْصَارِ، فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ هَاجَرَ مَعَهُ الطُّفَيْلُ وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ فَمَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ فِي مَنَامِهِ فِي هَيْئَةٍ حَسَنَةٍ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَهُ فَقَالَ لَهُ: مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَكَ؟ قَالَ: قِيلَ لِي: لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ. فَقَصَّ الطُّفَيْلُ رُؤْيَاهُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”کیا آپ ایک مضبوط قلعہ اور حفاظت کی جگہ پسند فرمائیں گے؟“ (جاہلیت میں دوس کا ایک قلعہ تھا) آپ ﷺ نے انکار کر دیا، اس لیے کہ اللہ نے یہ (شرف) انصار کے لیے رکھ چھوڑا تھا۔ جب آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو طفیل رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کے ایک اور شخص نے آپ کے ساتھ ہجرت فرمائی۔ مدینہ پہنچ کر انہیں وہاں کی آب و ہوا موافق نہ آئی، وہ شخص بیمار ہو گیا تو شدتِ تکلیف کی وجہ سے اس نے تیر کے پھلوں سے اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے، جس سے اس کے ہاتھوں سے خون بہنا شروع ہو گیا اور وہ مر گیا، تو طفیل رضی اللہ عنہ نے خواب میں اسے اچھی حالت میں دیکھا اور یہ دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ ڈھانپا ہوا ہے تو طفیل رضی اللہ عنہ ان سے پوچھنے لگے: ”تم نے اپنا ہاتھ کیوں ڈھانپا ہوا ہے؟“ تو وہ شخص کہنے لگا: ”مجھے کہا گیا کہ جس کو تو نے خود خراب کیا ہے ہم اسے ٹھیک نہیں کریں گے“، تو طفیل رضی اللہ عنہ نے سارا خواب نبی ﷺ کو سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ» ”اے اللہ! اس کے ہاتھوں کو بھی معاف فرما دے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النفقات / حدیث: 15835