السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه -- باب: أصل تحريم القتل في القرآن باب: قتل کی حرمت، اور جن پر قصاص واجب ہوتا ہے اور جن پر نہیں ہوتا، ان کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قرآن مجید میں قتل کی حرمت کی اصل کا بیان۔
حدیث نمبر: 15834
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَجْشَرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ السَّبِيعِيَّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَعْنِي إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي قَتَلْتُ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَرَأَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ {حم تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ} [غافر: ٢] ثُمَّ قَالَ لَهُ: اعْمَلْ وَلَا تَيْأَسْ ". وَقَدْ رُوِّينَا فِي سَنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُؤَكِدُ تَأْوِيلَ أَبِي مِجْلَزٍ رَحِمَهُ اللهُ.حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق سبیعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے امیر المؤمنین! مجھ سے قتل ہو گیا ہے، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سورہ غافر کی ابتدائی تین آیات ﴿حٰمٓ تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ﴾ «إِلَى قَوْلِهِ» ”اپنے اس قول تک کہ“ ﴿شَدِیْدِ الْعِقَابِ﴾ [سورة غافر: 1-3] پڑھیں، پھر فرمایا: نیک عمل کرتا رہ اور توبہ کرتا رہ، ناامید مت ہو۔
سنتِ رسول ﷺ سے ایسی احادیث ہم نے روایت کی ہیں جو ابو مجلز کے قول کی تاکید کرتی ہیں جو (15829) اور (15830) میں گزر چکا ہے۔