السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: ما جاء في تسوية المالك بين طعامه وطعام رقيقه، وبين كسوته وكسوة رقيقه باب: مالک کا اپنے اور اپنے غلام کے کھانے، نیز اپنے اور اپنے غلام کے پہناوے (لباس) میں برابری کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15779
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي خِدَاشِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ فِي الْمَمْلُوكِينَ: " أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَكْتَسُونَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَهُ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفَقَتُهُ، وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ " وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَنَا: الْمَعْرُوفُ لِمِثْلِهِ فِي بَلَدِهِ الَّذِي يَكُونُ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن ابی خداش بن عتبہ بن ابی لہب کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو غلاموں کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ ”تم انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو۔“
ابراہیم بن ابی خداش مجہول ہے، پہلی روایات اس کی شاہد ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی یہ نہ کر سکے کہ اپنے برابر اس کو کھلائے پلائے، تو پھر وہ یہ کرے جو نبی ﷺ نے بتایا ہے کہ اسے معروف طریقے سے کھلائے پلائے اور معروف ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جو شہر کی عام خوراک اور کپڑا ہوتا ہے۔