السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: ما جاء في تسوية المالك بين طعامه وطعام رقيقه، وبين كسوته وكسوة رقيقه باب: مالک کا اپنے اور اپنے غلام کے کھانے، نیز اپنے اور اپنے غلام کے پہناوے (لباس) میں برابری کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15780
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكِمْ بِطَعَامِهِ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ؛ فَإِنَّهُ وَلِيَ دُخَانَهُ وَحَرَّهُ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، وَغَيْرِهِ عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى مَا وَصَفْنَا مِنْ تَبَايُنِ طَعَامِ الْمَمْلُوكِ، وَطَعَامِ سَيِّدِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی کا خادم اس کے لیے کھانا لائے تو اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا لے۔ اگر ساتھ نہ بٹھائے تو ایک یا دو لقمے اسے ضرور دے دے، کیونکہ کھانا بناتے ہوئے گرمی اور دھواں اس نے برداشت کیا ہے۔“
یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کی اس بات کی دلیل ہے جو پچھلی حدیث کے اختتام پر بیان فرمائی تھی۔