السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: ما جاء في تسوية المالك بين طعامه وطعام رقيقه، وبين كسوته وكسوة رقيقه باب: مالک کا اپنے اور اپنے غلام کے کھانے، نیز اپنے اور اپنے غلام کے پہناوے (لباس) میں برابری کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15778
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَايَمَكُمْ مِنْ مَمْلُوكِيكُمْ فَأَطْعِمُوهُ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُ مِمَّا تَكْتَسُونَ، وَمَنْ لَمْ يُلَايِمْكُمْ مِنْهُمْ فَبِيعُوهُ، وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو غلاموں سے نرمی کرے تو اسے چاہیے کہ انہیں اپنے کھانے اور پینے سے کھلائے، پلائے اور لباس سے پہنائے اور جو ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ نہیں کر سکتا تو وہ انہیں بیچ دے۔ اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرے۔“ مورق تک یہ سند صحیح ہے۔