السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: ما جاء في تسوية المالك بين طعامه وطعام رقيقه، وبين كسوته وكسوة رقيقه باب: مالک کا اپنے اور اپنے غلام کے کھانے، نیز اپنے اور اپنے غلام کے پہناوے (لباس) میں برابری کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَعْرُورَ بْنَ سُوَيْدٍ، يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ؟ " ثُمَّ قَالَ لِي: " إِنَّ إِخْوَانَكُمْ جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.واصل احدب فرماتے ہیں: میں نے معرور بن سوید سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ میں ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ملا، ان پر اور ان کے غلام پر ایک جیسا کپڑا تھا۔ میں نے اس کے متعلق ان سے سوال کیا تو مجھے انہوں نے ایک حدیث سنائی کہ میں نے ایک آدمی کو گالی دے دی۔ اس نے نبی ﷺ سے میری شکایت کر دی۔ آپ نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تو نے اس کی والدہ کے بارے میں برا کہا؟“ پھر مجھے کہا: ”یہ تمہارے ماتحت بھائی ہیں، اپنے کھانے سے انہیں کھلاؤ، پینے سے پلاؤ اور اپنے لباس سے انہیں پہناؤ۔ اور ان کی طاقت سے بڑھ کر انہیں تکلیف نہ دو، اگر دو تو پھر ان کی مدد بھی کیا کرو۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے آدم سے اپنی صحیح میں اور امام مسلم رحمہ اللہ نے شعبہ کے طرق سے روایت کیا ہے۔