السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: ما جاء في تسوية المالك بين طعامه وطعام رقيقه، وبين كسوته وكسوة رقيقه باب: مالک کا اپنے اور اپنے غلام کے کھانے، نیز اپنے اور اپنے غلام کے پہناوے (لباس) میں برابری کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، هُوَ ابْنُ حَمْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ، قَالَ: قَدِمْنَا الرَّبَذَةَ فَأَتَيْنَا أَبَا ذَرٍّ، فَإِذَا عَلَيْهِ حُلَّةٌ، وَإِذَا عَلَى غُلَامِهِ أُخْرَى، قَالَ: فَقُلْنَا: لَوْ كَسَوْتَ غُلَامَكَ غَيْرَ هَذَا، وَجَمَعْتَ بَيْنَهُمَا فَكَانَتْ حُلَّةً. قَالَ: فَقَالَ: سَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا، إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا وَكَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً، فَنِلْتُ مِنْهَا، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَانِي إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي: " أَسَابَبْتَ فُلَانًا " قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: " فَهَلْ ذَكَرْتَ أُمَّهُ؟ " فَقُلْتُ: مَنْ يُسَابِبِ الرِّجَالَ ذُكِرَ أَبُوهُ وَأُمُّهُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ " قَالَ: قُلْتُ عَلَى سَاعَتِي: مِنَ الْكِبْرِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، إِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِهِ، وَلْيُلْبِسْهُ مِنْ لِبَاسِهِ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.اعمش، معرور سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ربذہ میں آئے تو دیکھا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ایک حلہ پہنا ہوا ہے اور ان کے غلام پر بھی ویسا ہی حلہ ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ اگر آپ غلام سے کپڑا لے کر اپنا ایک اچھا سا حلہ بنا لیتے اور غلام کو اور کپڑا دے دیتے، تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں کہ میں نے ایک آدمی کو گالی دے دی کہ اس کی ماں عجمی ہے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میری شکایت کر دی، میں بھی آ گیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ”کیا واقعی تو نے اسے گالی دی ہے اور اس کی ماں کا ذکر کیا ہے؟“ تو میں نے جواب دیا: جی یا رسول اللہ ﷺ! اور گالی میں تو ماں یا باپ کا ذکر آ ہی جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوذر! ابھی تجھ میں جاہلیت باقی ہے۔“ اور فرمایا: ”یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ نے تمہارے ماتحت بنا دیا ہے۔ لہٰذا ان سے اچھا برتاؤ کرو۔ جو خود کھاؤ، پیو، پہنو وہ انھیں بھی کھلاؤ، پلاؤ اور پہناؤ اور ان کی طاقت سے بڑھ کر ان پر بوجھ نہ ڈالو اور کوئی ایسا کام دو جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو تو ان کی مدد کیا کرو۔“
صحیح مسلم میں یہ روایت احمد بن یونس کے طرق سے اور بخاری میں اعمش کے ایک دوسرے طریق سے منقول ہے۔