السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: ما جاء في تسوية المالك بين طعامه وطعام رقيقه، وبين كسوته وكسوة رقيقه باب: مالک کا اپنے اور اپنے غلام کے کھانے، نیز اپنے اور اپنے غلام کے پہناوے (لباس) میں برابری کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15775
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ، قَالَ: لَقِينَا ⦗١٢⦘ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ عَلَيْهِ ثَوْبٌ، وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ أَخَذْتَ هَذَا الثَّوْبَ مِنْ غُلَامِكَ فَلَبِسْتَهُ فَكَانَتْ حُلَّةً، وَكَسَوْتَ غُلَامَكَ ثَوْبًا آخَرَ. فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " هُمْ إِخْوَانُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيَكْسُهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ فَلْيُعِنْهُ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.حافظ ثناء اللہ
معرور کہتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ کے مقام پر ملے، آپ نے ایک کپڑا پہنا ہوا تھا اور آپ کے غلام پر بھی ویسا ہی کپڑا تھا۔ ایک آدمی کہنے لگا: اے ابو ذر! اگر آپ اپنے غلام سے یہ کپڑا واپس لے لیتے تو آپ کا مکمل جوڑا بن جاتا، غلام کو اور کپڑا دے دیتے، تو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ نے تمہارے ماتحت بنایا ہے، تو جس کا بھی بھائی اس کے ماتحت ہو تو اسے اپنے جیسا کھانا کھلائے اور اپنے جیسا کپڑا پہنائے اور طاقت سے بڑھ کر اسے تکلیف نہ دے، اگر کوئی کام زیادہ سخت دے دے تو اس کی مدد کرے۔“