السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: الأم تتزوج فيسقط حقها من حضانة الولد وينتقل إلى جدته باب: ماں کے نکاح کر لینے سے بچے کی پرورش (حضانت) کا حق ساقط ہو کر اس کی نانی کی طرف منتقل ہو جانے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ، ثُمَّ فَارَقَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَكِبَ يَوْمًا إِلَى قُبَاءَ، فَوَجَدَ ابْنَهُ يَلْعَبُ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَخَذَ بِعَضُدِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الدَّابَّةِ، فَأَدْرَكَتْهُ جَدَّةُ الْغُلَامِ فَنَازَعَتْهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَا حَتَّى أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: ابْنِي. وَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: ابْنِي. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ. فَمَا رَاجَعَهُ عُمَرُ الْكَلَامَ.قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ایک انصاری عورت تھی اور ان سے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دے دی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دن سواری پر قباء گئے تو عاصم رضی اللہ عنہ کو مسجد کے صحن میں کھیلتے دیکھا تو بازو سے پکڑ کر سواری پر بٹھا لیا اور چل پڑے۔ بچے کی نانی نے دیکھ لیا اور بچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے لے لیا۔ وہ دونوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میرا بیٹا ہے۔“ عورت کہنے لگی: ”میرا بیٹا ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”اے عمر! ان کا راستہ چھوڑ دے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوئی بات نہ کی۔