السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: 15727
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو عُتْبَةَ، نا بَقِيَّةُ، نا حَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٧٨٠⦘ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذْ سَأَلَهُ رَجُلٌ هَلْ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا نَفَقَةٌ؟ فَقُلْتُ: " لَيْسَ لَهَا نَفَقَةٌ " فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَصَبْتَ يَا ابْنَ أَخِي أَنَا مَعَكَ ".حافظ ثناء اللہ
حبیب بن صالح فرماتے ہیں کہ مجھے محمد بن عباد مکی نے حدیث بیان کی کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، جب ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ کیا تین طلاق والی کے لیے خرچہ ہے؟ میں نے کہا: اس کے لیے خرچہ نہیں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اے بھتیجے! تو نے درست کہا اور میں تیرے ساتھ ہوں۔