السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِهَا فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَبْتُوتَةِ، فَقَالَ: تَعْتَدُّ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا فَقُلْتُ: فَأَيْنَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَ: هَاهْ وَوَصَفَ أَنَّهُ تَغَيَّظَ وَقَالَ: فَتَنَتْ فَاطِمَةُ النَّاسَ كَانَتْ بِلِسَانِهَا ذَرَّابَةً فَاسْتَطَالَتْ عَلَى أَحْمَائِهَا فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ.عمرو بن میمون بن مہران رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں مدینہ میں آیا، میں نے اس کے اہل میں سے زیادہ جاننے والے سے سوال کیا، مجھے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کی طرف بھیج دیا گیا، میں نے ان سے طلاقِ مبتوتہ والی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی۔ میں نے کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث کہاں گئی؟ انہوں نے کہا: اس پر افسوس! اور بیان کیا، وہ غصے میں تھے اور کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا، ان کی زبان میں تیزی تھی (یعنی وہ زبان دراز تھی) وہ اپنے دیوروں پر زبان درازی کرتی، اس کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ: ”وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزارے۔“ اسی طرح اس کو ابو معاویہ ضریر نے عمرو بن میمون رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے۔