السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ قَالُوا: نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَاقُ: أَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْيَمَنِ فَأَرْسَلَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِتَطْلِيقَةٍ كَانَتْ بَقِيَتْ مِنْ طَلَاقِهَا، فَأَمَرَ لَهَا الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ، وَعَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بِنَفَقَةٍ قَالَا: وَاللهِ مَا لَكِ مِنْ نَفَقَةٍ إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ قَوْلَهُمَا فَقَالَ: " لَا نَفَقَةَ لَكِ " وَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي الِانْتِقَالِ ⦗٧٧٧⦘ فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ: أَيْنَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " وَكَانَ أَعْمَى تَضَعُ ثِيَابَهَا عِنْدَهُ وَلَا يَرَاهَا، فَلَمَّا مَضَتْ عِدَّتُهَا " أَنْكَحَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ " فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مَرْوَانُ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ يَسْأَلُهَا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَتْهُ بِهِ فَقَالَ مَرْوَانُ: لَمْ نَسْمَعْ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا مِنِ امْرَأَةٍ سَنَأْخُذُ بِالْعِصْمَةِ الَّتِي وَجَدْنَا النَّاسَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حِينَ بَلَغَهَا قَوْلُ مَرْوَانَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمُ الْقُرْآنُ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ " حَتَّى بَلَغَ {لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا} [الطلاق: ١] قَالَتْ: هَذَا لِمَنْ كَانَتْ لَهُ مُرَاجَعَةٌ فَأِيُّ أَمْرٍ يَحْدُثُ بَعْدَ الثَّلَاثِ فَكَيْفَ تَقُولُونَ: لَا نَفَقَةَ لَهَا إِذَا لَمْ تَكُنْ حَامِلًا فَعَلَامَ تَحْبِسُونَهَا؟، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ.عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی طرف نکلا، اس نے اپنی بیوی (فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا) کی طرف وہ طلاق بھیجی جو اس کی طلاقوں میں سے باقی تھی۔ اس کو حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہما نے نفقہ کا حکم دیا۔ ان دونوں نے کہا: اللہ کی قسم! تیرے لیے نفقہ نہیں ہے، اگر تو حاملہ ہوتی تو تیرے لیے خرچہ ہوتا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ کے سامنے ان دونوں کے قول کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے خرچہ نہیں ہے۔“ اس نے آپ ﷺ سے منتقل ہونے کے بارے میں اجازت مانگی، آپ ﷺ نے اس کو اجازت دے دی۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کہاں (منتقل ہو جاؤں)؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابن ام مکتوم کی طرف، وہ نابینا آدمی ہے، تو اس کے پاس اپنے کپڑے اتارے گی تو وہ تجھے نہیں دیکھ سکے گا۔“ جب اس کی عدت گزر گئی تو اس کا نکاح نبی ﷺ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ مروان نے اس کی طرف قبیصہ بن زویب کو بھیجا کہ وہ اس سے اس حدیث کے بارے میں سوال کرے، اس نے اس کو حدیث بیان کر دی۔ مروان نے کہا: میں نے یہ حدیث نہیں سنی مگر ایک عورت سے، ہم عنقریب اس عصمت کو تھامے رکھیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب مروان کا یہ قول ان کو پہنچا تو انہوں نے کہا: میرے اور تمہارے درمیان قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] حتیٰ کہ وہ اس مقام تک پہنچا ﴿لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، مگر یہ کہ وہ واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں (تو ان کو نکال دو)، تم نہیں جانتے شاید کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کے بعد کوئی نیا معاملہ پیدا کر دے۔“ وہ کہتی ہیں: یہ اس کے لیے ہے جس کے لیے رجوع (کا حق) ہو، بھلا کون سا معاملہ ہے جو تین (طلاقوں) کے بعد واقع ہو سکتا ہے؟ تم کیسے کہتے ہو کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے جب وہ حاملہ نہ ہو؟ پھر تم اسے کس بات پر (نکلنے سے) روک رہے ہو؟