السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: المبتوتة لا نفقة لها إلا أن تكون حاملا باب: طلاقِ بتہ (طلاقِ مغلظہ) والی عورت کے لیے نفقہ نہ ہونے کا بیان سوائے اس کے کہ وہ حاملہ ہو۔
حدیث نمبر: 15716
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، وَهِيَ أُخْتُ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَأَمَرَ وَكِيلَهُ لَهَا بِنَفَقَةٍ فَرَغِبَتْ عَنْهَا فَقَالَ لِي وَكِيلُهُ: مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ نَفَقَةٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا: " صَدَقَ "، وَنَقَلَهَا إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَأَنْكَرَ النَّاسُ عَلَيْهَا مَا كَانَتْ تُحَدِّثُ مِنْ خُرُوجِهَا قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، انہوں نے خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، انہوں نے ان کو تین طلاقیں دے دیں۔ ان کے وکیل نے ان کو اس عورت کے لیے خرچے کا حکم دیا، اس نے اس سے بےرغبتی کی۔ مجھے اس کے وکیل نے کہا: تیرے لیے ہمارے ذمے خرچہ نہیں ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں۔ انہوں نے اس کے بارے میں آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا“ اور ان کو ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کی طرف منتقل کردیا۔ اس پر لوگوں نے انکار کیا جو وہ حلال ہونے سے پہلے خروج بیان کرتی ہیں۔