السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب تأكيد السواك عند القيام إلى الصلاة باب: نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت مسواک کی تاکید کا بیان
حدیث نمبر: 157
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ السِّوَاكُ مِنْ أُذُنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ ". قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: رَوَاهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ سُفْيَانُ. وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا يَحْيَى. قَالَ الشَّيْخُ: وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَهُمْ. وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ غَلِطَ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَوَّلِ إِلَى هَذَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مسواک نبی ﷺ کے کان پر ایسے ہوتی تھی جیسے کاتب کے کان پر قلم ہوتا ہے۔
(ب) ابو القاسم (طبرانی) کہتے ہیں کہ اسے سفیان سے صرف یحییٰ نے روایت کیا ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن یمان محدثین کے نزدیک قوی نہیں۔ اور لگتا ہے کہ انہیں غلطی لگی ہے اور انہوں نے محمد بن اسحاق کی پہلی حدیث کو اس روایت کی طرف منتقل کر دیا ہے۔