السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب تأكيد السواك عند القيام إلى الصلاة باب: نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت مسواک کی تاکید کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ". قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: فَرَأَيْتُ زَيْدًا يَجْلِسُ فِي ⦗٦١⦘ الْمَسْجِدِ، وَإِنَّ السِّوَاكَ مِنْ أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ. فَكُلَّمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَاكَ. وَبَلَغَنِي عَنِ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَصَحُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: كِلَاهُمَا عِنْدِي صَحِيحٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ وَقَعَ آخِرٌ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ بِإِسْنَادٍ لَهُ آخَرَ.(الف) سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر میں امت پر مشقت نہ سمجھتا تو ان کو ہر نماز کے لیے مسواک کا حکم دیتا۔“
(ب) ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور مسواک ان کے کان پر ایسے تھی، جیسے کاتب اپنے کان پر قلم کو رکھتا ہے، جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے۔
مجھے امام بخاری رحمہ اللہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ وہ فرماتے تھے: ابو سلمہ کی زید بن خالد سے روایت زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک دونوں صحیح ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا آخری حصہ محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ سے دوسری سند سے منقول ہے۔