السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: ما جاء في الغيلة باب: غیلہ (ایامِ رضاعت میں صحبت کرنے یا حالتِ حمل میں دودھ پلانے) کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15685
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْفَقِيهُ الْفَامِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ، نا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، نا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي فَقَالَ: لِمَ؟ فَقَالَ: شَفَقًا عَلَى وَلَدِهَا قَالَ: " إِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَلَا مَا ضَرَّ ذَلِكَ فَارِسَ وَالرُّومَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَغَيْرِهِ عَنِ الْمُقْرِئِ.حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی اور کہا کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے اس سے کہا: ”یہ کس لیے کرتا ہے؟“ اس نے کہا: اپنی اولاد پر شفقت کرتے ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اسی طرح ہوتا تو یہ فارس اور روم کو نقصان دیتی“، یعنی اس نے فارس اور روم کو نقصان نہیں دیا۔
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے ابن نمیر اور اس کے علاوہ نے مقری سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔