السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: ما جاء في الغيلة باب: غیلہ (ایامِ رضاعت میں صحبت کرنے یا حالتِ حمل میں دودھ پلانے) کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَبُو تَوْبَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ الْغَيْلَ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ فَرَسِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم اپنی اولادوں کو مخفی انداز میں قتل نہ کرو، کیونکہ «الْغَيْلَةُ» ”غیلہ“ (دورانِ حمل دودھ پلانا) شہسوار کو پا لیتا ہے اور وہ اسے گھوڑے سے گرا دیتا ہے۔“