حدیث نمبر: 15672
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، نا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَابْنُ مَنِيعٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَيَعْقُوبُ، وَدلَّوَيْهِ قَالُوا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلَانَةَ بِنْتَ فُلَانٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَجِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ فَقَالَ: " وَكَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ " ⦗٧٦٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ

عبید بن ابی مریم، عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے اسے عقبہ رضی اللہ عنہ سے سنا لیکن میں عبید کی حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں۔ میں نے ایک عورت سے شادی کی، ہمارے پاس ایک سیاہ عورت آئی، اس نے کہا: ”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: ”میں نے فلاں کی بیٹی فلاں سے شادی کی، ہمارے پاس ایک سیاہ عورت آئی، اس نے کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے اور وہ جھوٹی ہے۔“ اس نے مجھ سے مباحثہ کیا، میں آپ ﷺ کے پاس آپ کے چہرے کی طرف سے آیا اور میں نے کہا: ”وہ جھوٹی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ اس کا خیال ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے؟ تو اس بیوی کو چھوڑ دے۔“
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں علی بن عبداللہ اور اسماعیل سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الرضاع / حدیث: 15672
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»