السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: ما جاء في تحديد ذلك بالحولين باب: رضاعت کی مدت دو سال مقرر ہونے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15664
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي رَضَاعَةِ الْكَبِيرِ: " مَا أُرَاهَا إِلَّا تُحَرِّمُ " فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبْصِرْ مَا تُفْتِي بِهِ الرَّجُلَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَمَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا رَضَاعَةَ إِلَّا مَا كَانَ فِي الْحَوْلَيْنِ "، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: " لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا كَانَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " هَذَا وَإِنْ كَانَ مُرْسَلًا فَلَهُ شَوَاهِدُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کبیر کی رضاعت کے بارے میں کہا: میں اس کو نہیں سمجھتا مگر وہ حرام ہو چکی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رضاعت وہی ہے جو دو سالوں میں ہو۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھ سے سوال نہ کرو جب تک یہ عالم تمہارے درمیان ہے۔
یہ اگرچہ مرسل ہے، لیکن اس کے لیے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے شواہد موجود ہیں۔