السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: رضاع الكبير باب: بڑی عمر کے شخص کو دودھ پلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ، نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، نا أَبُو مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَهُ امْرَأَتُهُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتْ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ لَا يَمُصُّ فَأَخَذَ زَوْجُهَا يَمُصُّ لَبَنَهَا وَيَمُجُّهُ حَتَّى وَجَدَ طَعْمَ لَبَنِهَا فِي حَلْقِهِ فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ " حُرِّمَتْ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ "، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تُفْتِي هَذَا بِكَذَا وَكَذَا وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا رَضَاعَ إِلَّا مَا شَدَّ الْعَظْمَ وَأَنْبَتَ اللَّحْمَ ".سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی اور وہ سفر میں تھا۔ اس نے بچے کو جنم دیا۔ بچہ دودھ نہیں چوس سکتا تھا۔ اس کے خاوند نے اسے پکڑا، وہ اس کے دودھ کو چوستا تھا اور وہ اس کو پھینکتا تھا حتیٰ کہ اس نے اس کے دودھ کے ذائقے کو اپنے حلق میں محسوس کیا۔ وہ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے اس سے اس معاملے کا ذکر کیا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھ پر تیری بیوی حرام ہوگئی ہے۔ وہ شخص سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ہے جس نے اس طرح اور اس طرح فتویٰ دیا، حالانکہ تحقیق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رضاعت نہیں ہے مگر جو ہڈیوں کو مضبوط کرے اور گوشت کو بڑھائے۔“