السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: رضاع الكبير باب: بڑی عمر کے شخص کو دودھ پلانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالُوا: أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ فَرَأَيْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا مَنْ تُرَاضِعُونَ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ " وَقَالَ: فَقَالَ بِشْرٌ فِي حَدِيثِهِ: " انْظُرُوا مَا إِخْوَانُكُمْ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.اشعث بن ابو شعثاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے مسروق کو کہتے ہوئے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرما رہی تھیں: مجھ پر رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے اور میرے پاس ایک شخص تھا اور میں نے ناپسندیدگی کو آپ ﷺ کے چہرے پر دیکھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ! بیشک یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دیکھو جس نے تم کو دودھ پلایا ہے، «إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ» ”رضاعت تو بھوک کو ختم کرنے سے ثابت ہوتی ہے۔“ “ اور کہتے ہیں: بشر نے اپنی حدیث میں کہا: ”تم دیکھو کیا وہ تمہارے بھائی ہیں۔“ اس کو بخاری اور مسلم نے شعبہ کی حدیث سے اپنی صحیح میں نکالا ہے۔