السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: من قال: لا يحرم من الرضاع إلا خمس رضعات باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک حرمت صرف پانچ مرتبہ دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 15636
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، نا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُحَرِّمُ الْفِيقَةُ " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْفِيقَةُ؟ قَالَ: " الْمَرْأَةُ تَلِدُ فَتَحْصُرُ اللَّبَنَ فِي ثَدْيِهَا فَتُرْضِعُ لَهَا جَارَتَهَا الْمَزَّةَ وَالْمَزَّتَيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«الْفَیْقَةُ» ”فیقہ“ حرام نہیں کرتا۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! فیقہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت بچہ جنے اور اس کے پستانوں میں دودھ آ جائے، پھر وہ اپنی ہمسائی کو ایک مرتبہ یا دو بار دودھ پلائے۔“