السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الرضاع— رضاعت کا بیان
باب: يحرم من الرضاع ما يحرم من الولادة وأن لبن الفحل يحرم باب: رضاعت سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب (پیدائش) سے حرام ہوتے ہیں، اور اس بات کا بیان کہ ”لبن الفحل“ (یعنی جس مرد کے نطفے کی وجہ سے عورت کو دودھ اترا ہو وہ) بھی حرمت کا باعث ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ السَّرِيُّ، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُرَاهُ فُلَانًا " لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ كَانَ فُلَانًا حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ يَدْخُلُ عَلَيَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ " لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.عمرہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺ ان کے پاس تھے، انہوں نے ایک آدمی کی آواز سنی، وہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخلے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ آدمی آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس کو جانتا ہوں، وہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی چچا ہے۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر فلاں یعنی اس کا چچا رضاعی زندہ ہوتا تو وہ مجھ پر داخل ہو سکتا تھا؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جی ہاں! رضاعت ان رشتوں کو حرام کرتی ہے جو پیدائش حرام کرتی ہے۔“
یہ الفاظ امام شافعی کی حدیث کے ہیں۔ اس کو امام بخاری نے صحیح میں اسماعیل بن ابی اویس اور اس کے علاوہ دیگر رواۃ سے نقل کیا ہے اور اس کو امام مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔