السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال بتخيير المفقود إذا قدم بينها وبين الصداق ومن أنكره باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جو لاپتہ شخص کی واپسی پر اسے بیوی اور مہر (واپس لینے) کے درمیان اختیار دینے کے قائل ہیں، اور جنہوں نے اس امر کا انکار کیا ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ أَبُو نَصْرٍ، يَعْنِي عَبْدَ الْوَهَّابِ بْنَ عَطَاءٍ: سَأَلْتُ سَعِيدًا عَنِ الْمَفْقُودِ، فَأَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ إِلَى سُهَيْمَةَ بِنْتِ عُمَيْرٍ الشَّيْبَانِيَّةِ أَسْأَلُهَا، فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ زَوْجَهَا صَيْفِيَّ بْنَ قَتِيلٍ نُعِيَ لها مِنْ قَنْدَايِلَ فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ الْعَبَّاسَ بْنَ طَرِيفٍ الْقَيْسِيَّ ثُمَّ إِنَّ زَوْجَهَا الْأَوَّلَ قَدِمَ فَأَتَيْنَا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا فَقَالَ: كَيْفَ أَقْضِي بَيْنَكُمْ وَأَنَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ؟ فَقُلْنَا: قَدْ رَضِينَا بِقَوْلِكَ فَقَضَى " أَنْ يُخَيَّرَ الزَّوْجُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّدَاقِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ " ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَضَى بِمَا قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " خُيِّرَ الزَّوْجُ الْأَوَّلُ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَبَيْنَ الصَّدَاقِ فَاخْتَارَ الصَّدَاقَ فَأَخَذَ مِنِّي أَلْفَيْنِ وَمِنْ زَوْجِي أَلْفَيْنِ وَهُوَ صَدَاقُهُ الَّذِي كَانَ جَعَلَ لِلْمَرْأَةِ " قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ قَدْ تَزَوَّجَتْ مِنْ بَعْدِهِ وَوَلَدَتْ لِزَوْجِهَا أَوْلَادًا فَرَدَّهَا عَلَيْهِ وَوَلَدَهَا وَجَعَلَ لِأَبِيهِمْ أَنْ يَفْتَكَّهُمْ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: قَالَ سَعِيدٌ: وَنا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ جَعَلَ أَوْلَادَهَا لِأَبِيهِمْ قَالَ: وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ: يَأْخُذُ الصَّدَاقَ الْآخَرَ وَعَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ: يَأْخُذُ الصَّدَاقَ الْأَوَّلَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ لَمْ تَعْرِفْ بِمَا تُثْبِتُ بِهِ رِوَايَتَهَا هَذِهِ وَإِنْ ثَبَتَتْ تُضَعِّفْ رِوَايَةَ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلَةً فِي الْمَفْقُودِ فَإِنَّ هَذِهِ الرِّوَايَةَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي امْرَأَةٍ نُعِيَ لَهَا زَوْجُهَا، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا قَدَّمْنَا ذِكْرُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.یحییٰ بن ابو طالب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ابو نصر عبدالوہاب بن عطاء نے کہا: میں نے سعید سے گم شدہ خاوند کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے ہمیں قتادہ سے خبر دی کہ ابو الملیح ہذلی نے کہا: مجھے حکم بن ایوب نے سہیمہ بنت عمیر شیبانیہ کی طرف بھیجا کہ میں اس سے سوال کروں، اس نے مجھے حدیث بیان کی کہ اس کے خاوند صیفی بن قتیل کے فوت ہونے کی خبر قندابیل سے اسے دی گئی۔ اس کے بعد اس نے عباس بن طریف قیسی سے شادی کر لی، پھر اس کا پہلا خاوند بھی آ گیا۔ ہم عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ محصور تھے۔ انہوں نے ہم پر جھانکا اور فرمایا: میں تمہارے درمیان کیسے فیصلہ کروں جبکہ میں اس حال میں ہوں؟ ہم نے کہا: ہم آپ کے فرمان پر راضی ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ پہلے خاوند کو حقِ مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو ہم علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے بھی وہی فیصلہ کیا جو عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ اس نے کہا: پہلے خاوند کو اس کی بیوی اور حقِ مہر کے درمیان اختیار دیا گیا تو اس نے حقِ مہر کو اختیار کیا۔ اس نے مجھ سے دو ہزار لیے اور میرے خاوند سے بھی دو ہزار لیے اور یہ اس کا وہی حقِ مہر تھا جو اس نے عورت کے لیے مقرر کیا تھا۔ فرماتے ہیں: اس (پہلے خاوند) کی ایک امِ ولد بھی تھی جس نے اس کے بعد شادی کر لی تھی اور اپنے خاوند کے لیے اولاد کو جنم دیا تھا، تو انہوں نے اسے اور اس کی اولاد کو اس کی طرف لوٹا دیا اور ان کے باپ کو یہ حق دیا کہ وہ انہیں فدیہ دے کر چھڑا لے۔ عبدالوہاب نے فرمایا: سعید نے کہا: ہمیں ایوب نے ابو الملیح سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، البتہ ایوب نے کہا: انہوں نے اس کی اولاد کو ان کے باپ کے لیے قرار دیا۔ فرمایا: قتادہ فرماتے تھے: وہ دوسرے کا حقِ مہر لے، اور قتادہ کی حسن سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: وہ پہلے کا حقِ مہر لے۔
اس عورت کی کوئی ایسی پہچان نہیں جس سے اس کی یہ روایت ثابت ہو، اور اگر یہ ثابت ہو جائے تو یہ گم شدہ خاوند کے بارے میں ابو الملیح کی علی رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت کو کمزور کر دیتی ہے، کیونکہ اس روایت میں ہے کہ یہ معاملہ ایسی عورت کا تھا جسے اس کے خاوند کی موت کی خبر دی گئی تھی، اور علی رضی اللہ عنہ سے مشہور وہی ہے جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔