حدیث نمبر: 15574
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا الثَّقَفِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَوْ قَالَ: أَظُنُّهُ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ عُمَرَ ⦗٧٣٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَيَّرَ الْمَفْقُودَ بَيْنَ امْرَأَتِهِ وَالصَّدَاقِ لَرَأَيْتُ أَنَّهُ أَحَقُّ بِهَا إِذَا جَاءَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ امْرَأَةٌ ابْتُلِيَتْ فَلْتَصْبِرْ لَا تَنْكِحُ حَتَّى يَأْتِيَهَا يَقِينُ مَوْتِهِ قَالَ: وَبِهَذَا نَقُولُ قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَى قَتَادَةُ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو وعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا جَاءَ الْأَوَّلُ خُيِّرَ بَيْنَ الصَّدَاقِ الْأَخِيرِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، وَرِوَايَةُ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ ضَعِيفَةٌ وَأَبُو الْمَلِيحِ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

شعبی، مسروق سے روایت کرتے ہیں یا فرمایا: میں گمان کرتا ہوں کہ مسروق سے روایت ہے کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گم شدہ خاوند کو اس کی بیوی اور حق مہر کے درمیان اختیار نہ دیا ہوتا، تو میں سمجھتا کہ وہ اس کا زیادہ حق دار ہوتا جب وہ آجاتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ گم شدہ خاوند کی بیوی ایسی عورت ہے جس کی آزمائش کی گئی ہے، وہ صبر کرے اور نکاح نہ کرے یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آجائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی ہم کہتے ہیں۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور اسے قتادہ نے خلاس بن عمرو سے، ابوملیح سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب اس کا پہلا خاوند آجائے تو اسے دوسرے حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔
اور خلاس کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ضعیف ہے اور ابوملیح نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15574
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»