حدیث نمبر: 15570
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى " أَنَّ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ خَرَجَ يُصَلِّي مَعَ قَوْمِهِ الْعِشَاءَ فَسَبَتْهُ الْجِنُّ فَفُقِدَ فَانْطَلَقَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَصَّتْ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَسَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ قَوْمَهُ فَقَالُوا: نَعَمْ خَرَجَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ فَفُقِدَ فَأَمَرَهَا " أَنْ تَرَبَّصَ أَرْبَعَ سِنِينَ، فَلَمَّا مَضَتِ الْأَرْبَعُ سِنِينَ أَتَتْهُ فَأَخْبَرَتْهُ فَسَأَلَ قَوْمَهَا فَقَالُوا: نَعَمْ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ فَتَزَوَّجَتْ فَجَاءَ زَوْجُهَا يُخَاصِمُ فِي ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَغِيبُ أَحَدُكُمُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ لَا يَعْلَمُ أَهْلُهُ حَيَاتَهُ "، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ لِي عُذْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: وَمَا عُذْرُكَ؟ قَالَ: خَرَجْتُ أُصَلِّي الْعِشَاءَ فَسَبَتْنِي الْجِنُّ فَلَبِثْتُ فِيهِمْ زَمَانًا طَوِيلًا فَغَزَاهُمْ جِنٌّ مُؤْمِنُونَ أَوْ قَالَ: مُسْلِمُونَ شَكَّ سَعِيدٌ فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ فَسَبَوْا مِنْهُمْ سَبَايَا فَسَبَوْنِي فِيمَا سَبَوْا مِنْهُمْ فَقَالُوا: نَرَاكَ رَجُلًا مُسْلِمًا وَلَا يَحِلُّ لَنَا سَبْيُكَ فَخَيَّرُونِي بَيْنَ الْمُقَامِ وَبَيْنَ الْقُفُولِ إِلَى أَهْلِي فَاخْتَرْتُ الْقُفُولَ إِلَى أَهْلِي فَأَقْبَلُوا مَعِي أَمَّا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ يُحَدِّثُونِي وَأَمَّا بِالنَّهَارِ فَعِصَارُ رِيحٍ أَتْبَعُهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَمَا كَانَ طَعَامُكَ فِيهِمْ؟ " قَالَ: الْفُولُ وَمَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ، قَالَ: فَمَا كَانَ شَرَابُكَ فِيهِمْ؟ قَالَ: الْجَدَفُ قَالَ قَتَادَةُ: وَالْجَدَفُ مَا لَا يُخَمَّرُ مِنَ الشَّرَابِ قَالَ: فَخَيَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَ الصَّدَاقِ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ " قَالَ سَعِيدٌ: وَحَدَّثَنِي مَطَرٌ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ ⦗٧٣٣⦘ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا أَنَّ مَطَرًا زَادَ فِيهِ قَالَ: أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ أَرْبَعَ سِنِينَ وَأَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی اپنی قوم کے ساتھ عشاء کی نماز کے لیے نکلا تو اسے جنوں نے قیدی بنا لیا، وہ لاپتہ ہو گیا تو اس کی بیوی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اس کا قصہ بیان کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کی قوم سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: جی ہاں! وہ عشاء کی نماز کے لیے نکلا تھا اور پھر اسے گم پایا گیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ وہ چار سال تک انتظار کرے۔ جب چار سال گزر گئے تو وہ دوبارہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں خبر دی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے دوبارہ سوال کیا۔ انہوں نے کہا: جی ہاں! تو اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ وہ شادی کر لے۔ چنانچہ اس نے شادی کر لی، پھر اس کا پہلا خاوند واپس آگیا، اس نے اس معاملے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عدالت میں جھگڑا پیش کیا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک لمبا عرصہ غائب رہتا ہے اور اس کے اہل نہیں جانتے کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! میرے پاس عذر ہے۔ آپ نے پوچھا: تیرا کیا عذر ہے؟ اس نے کہا: میں عشاء کی نماز کے لیے نکلا تو مجھے جنوں نے قید کر لیا اور میں ایک طویل عرصے تک ان کے درمیان رہا، پھر مومن یا مسلم جنوں نے ان سے لڑائی کی—اس کے بارے میں سعید کو شک ہوا ہے—انہوں نے ان سے قتال کیا اور ان پر غلبہ پایا، مومن جنوں نے ان کے جنوں کو قید کیا اور مجھے بھی قیدی بنایا، پھر انہوں نے کہا: ہم تمہیں مسلمان آدمی سمجھتے ہیں اور ہمارے لیے تمہیں قیدی بنانا حلال نہیں ہے، چنانچہ انہوں نے مجھے وہاں رہنے یا اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جانے کے درمیان اختیار دیا، تو میں نے اپنے اہل کی طرف لوٹنے کو اختیار کیا، وہ میرے ساتھ آئے، رات کو آئے یا دن کو آئے—انہوں نے مجھے یہ بیان نہیں کیا—میں ان کی ہوا کی پیروی کرتا رہا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: ان میں تیرا کھانا کیا تھا؟ اس نے کہا: «الْفُولُ» ”لوبیا“ اور وہ چیز جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس میں تیرا پینا کیا تھا؟ اس نے کہا: «الْجَدَفُ» ”جدف“۔ قتادہ فرماتے ہیں: «الْجَدَفُ» ”جدف“ وہ شراب ہے جو سکر پیدا ہونے سے پہلے استعمال کرتے ہیں۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو حق مہر اور اس کی بیوی کے درمیان اختیار دے دیا۔ سعید فرماتے ہیں: اور مجھے مطر نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے قتادہ کی حدیث کی طرح نقل فرماتے ہیں، مگر مطر نے اس میں کچھ زیادہ کیا ہے، فرماتے ہیں: اسے حکم دیا کہ وہ چار سال، چار ماہ اور دس دن انتظار کرے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15570
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»