السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال: تنتظر أربع سنين ثم أربعة أشهر وعشرا ثم تحل باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک وہ عورت چار سال تک انتظار کرے گی، پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے گی، پھر وہ (نکاحِ ثانی کے لیے) حلال ہو جائے گی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ شُعْبَةُ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فِي الْمَفْقُودِ تَرَبَّصُ امْرَأَتُهُ أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا وَلِيُّ زَوْجِهَا ثُمَّ تَرَبَّصُ بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ثُمَّ تَزَوَّجُ " وَرَوَاهُ عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي طَلَاقِ الْوَلِيِّ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُجَاهِدٌ عَنِ الْفَقِيدِ الَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الْجِنُّ فِي قَضَاءِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِذَلِكَ، وَرَوَاهُ خِلَاسُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، وَرِوَايَةُ ⦗٧٣٢⦘ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ ضَعِيفَةٌ وَرِوَايَةُ ابْنِ الْمَلِيحِ عَنْ عَلِيٍّ مُرْسَلَةٌ وَالْمَشْهُورُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُ هَذَا، وَرَوَى أَبُو عُبَيْدٍ فِي كِتَابِهِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ شَهِدَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَذَاكَرَا امْرَأَةَ الْمَفْقُودِ فَقَالَا: تَرَبَّصُ بِنَفْسِهَا أَرْبَعَ سِنِينَ ثُمَّ تَعْتَدُّ عِدَّةَ الْوَفَاةِ، ثُمَّ ذَكَرُوا النَّفَقَةَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَهَا نَفَقَتُهَا لِحَبْسِهَا نَفْسِهَا عَلَيْهِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِذًا يَضُرُّ ذَلِكَ بِأَهْلِ الْمِيرَاثِ وَلَكِنْ لِتُنْفِقْ فَإِنْ قَدِمَ أَخَذَتْهُ مِنْ مَالِهِ وَإِنْ لَمْ يَقْدَمْ فَلَا شَيْءَ لَهَا.عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا جس کا خاوند گم ہو جائے کہ وہ چار سال انتظار کرے۔ پھر خاوند کا ولی اس کو طلاق دے۔ پھر وہ اس کے بعد چار ماہ اور دس دن انتظار کرے، پھر شادی کر لے۔ اس کو عاصم احول نے ابو عثمان رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور ابو عثمان رحمہ اللہ، عمر رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل ولی کی طلاق کے بارے میں نقل فرماتے ہیں، اور اس کو خلاس بن عمرو اور ابو ملیح نے علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور خلاس کی روایت علی رضی اللہ عنہ سے ضعیف ہے اور ابو ملیح کی روایت علی رضی اللہ عنہ سے مرسل ہے اور مشہور علی رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف ہے اور ابو عبید نے اپنی کتاب میں یزید سے، سعید بن ابی عروبہ سے، جعفر بن ابو وحشیہ سے، عمرو بن ہزم سے اور جابر بن زید رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ وہ عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، ان دونوں نے آپس میں گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں مذاکرہ کیا۔ ان دونوں نے کہا: وہ اپنے نفس کے ساتھ چار سال انتظار کرے پھر وہ وفات کی عدت گزارے۔ پھر انھوں نے خرچے کا ذکر کیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کے لیے خرچہ ہو گا، اس کے اپنے آپ کو اس مرد پر روکنے کی وجہ سے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب اسے اہل میراث کے ساتھ مجبور کیا جائے اور وہ خرچ کرے، اگر اس کا خاوند آ جائے تو وہ اس کے مال میں سے لے لے۔ اگر وہ نہ آئے تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔