السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحيض— حیض کا بیان
باب: غسل المستحاضة المميزة عند إدبار حيضها باب: تمیز کرنے والی مستحاضہ کا اپنی حیض کی مدت ختم ہونے پر غسل کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٤٨٦⦘ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتِ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي" قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ. وَذِكْرُ الْغُسْلِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ صَحِيحٌ وَقَوْلُهُ: " فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ وَإِذَا أَدْبَرَتْ" تَفَرَّدَ بِهِ الْأَوْزَاعِيُّ مِنْ بَيْنَ ثِقَاتِ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ وَالصَّحِيحُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ كَانَتْ مُعْتَادَةً وَأَنَّ هَذِهِ اللَّفْظَةَ إِنَّمَا ذَكَرَهَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ وَقَدْ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ كَمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ مِنَ الثِّقَاتِ.(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ان کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا۔ انہوں نے اس کی شکایت نبی ﷺ سے کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حیض نہیں ہے بلکہ رگ سے ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب چلا جائے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ٹب میں بیٹھتی تھیں جو ان کی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا تھا تو خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی۔ اس حدیث میں غسل کا ذکر صحیح ہے اور آپ ﷺ کا فرمان «فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ وَإِذَا أَدْبَرَتْ» ”پس جب حیض آئے اور جب پیٹھ پھیر جائے“ بھی صحیح ہے۔
(ب) امام زہری کے ثقات شاگردوں میں سے زہری کا تفرد ہے۔ صحیح بات ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عادت والی تھیں۔ یہ لفظ فاطمہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کے قصہ میں ہشام بن عروہ نے عن ابیہ عن عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کیے ہیں۔