السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال: امرأة المفقود امرأته حتى يأتيها يقين وفاته باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک لاپتہ شخص کی بیوی اسی کے نکاح میں رہے گی یہاں تک کہ اسے اپنے شوہر کی وفات کا یقین ہو جائے۔
حدیث نمبر: 15564
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، نا الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ " تُلَوَّمُ وَتَصْبِرُ " وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ فِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابن شبرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں لکھا کہ وہ انتظار کرے اور صبر کرے۔
اس بارے میں ایک مسند حدیث بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کی حدیث سے دلیل نہیں لی جاتی۔