السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال: امرأة المفقود امرأته حتى يأتيها يقين وفاته باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک لاپتہ شخص کی بیوی اسی کے نکاح میں رہے گی یہاں تک کہ اسے اپنے شوہر کی وفات کا یقین ہو جائے۔
حدیث نمبر: 15563
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، ثنا سِمَاكٌ، عَنْ حَنَشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " لَيْسَ الَّذِي قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَيْءٍ يَعْنِي فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ هِيَ امْرَأَةُ الْغَائِبِ حَتَّى يَأْتِيَهَا يَقِينُ مَوْتِهِ أَوْ طَلَاقُهَا وَلَهَا الصَّدَاقُ مِنْ هَذَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا وَنِكَاحُهُ بَاطِلٌ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: هِيَ امْرَأَةُ الْأَوَّلِ دَخَلَ بِهَا الْآخَرُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَهُوَ قَوْلُ النَّخَعِيِّ وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا.حافظ ثناء اللہ
حنش سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ بات جو عمر رضی اللہ عنہ نے کہی ہے، کچھ بھی نہیں ہے یعنی گم شدہ خاوند کی بیوی کے بارے میں یہ اسی کی بیوی ہے جو غائب ہو گیا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت کی یقینی خبر آ جائے یا اس کی طلاق کی یقینی خبر آ جائے اور اس کے لیے حق مہر ہو گا اس مرد سے اس کی شرمگاہ کو حلال کیے جانے کی وجہ سے اور اس کا نکاح باطل ہے۔
اور ہم کو سعید بن جُبیر رحمہ اللہ نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ پہلے خاوند کی بیوی ہے، اس کے ساتھ دوسرے نے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔