السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال: امرأة المفقود امرأته حتى يأتيها يقين وفاته باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک لاپتہ شخص کی بیوی اسی کے نکاح میں رہے گی یہاں تک کہ اسے اپنے شوہر کی وفات کا یقین ہو جائے۔
حدیث نمبر: 15565
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِيُّ، نا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ، نا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " امْرَأَةُ الْمَفْقُودِ امْرَأَتُهُ حَتَّى يَأْتِيَهَا الْبَيَانُ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ عَنْ سَوَّارِ بْنِ مُصْعَبٍ، وَسَوَّارٌ ضَعِيفٌ.حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ عورت جس کا خاوند گم ہو جائے وہ اسی کی بیوی ہے حتیٰ کہ اس کے بارے میں وضاحت آ جائے۔“
اور اسی طرح زکریا بن یحییٰ واسطی نے سوار بن مصعب سے بیان کیا ہے اور سوار ضعیف راوی ہے۔