السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في أقل الحمل باب: مدتِ حمل کی کم از کم مقدار کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٧٢٧⦘ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ وَلَدَتْ فِي سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُرْجَمَ " فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ ذَلِكَ عَلَيْهَا قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا} [الأحقاف: ١٥] وَقَالَ: {وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ} [لقمان: ١٤] وَقَالَ: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ} [البقرة: ٢٣٣] فَالرَّضَاعَةُ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ شَهْرًا وَالْحَمْلُ سِتَّةُ أَشْهُرٍ " فَأَمَرَ بِهَا عُثْمَانُ " أَنْ تُرَدَّ فَوُجِدَتْ قَدْ رُجِمَتْ " وَاللهُ أَعْلَمُ.امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو حدیث پہنچی کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا، اس نے چھ ماہ میں بچے کو جنم دیا تھا، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر رجم نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [سورة الأحقاف: 15] ”اور حمل اور اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت تیس ماہ ہے۔“ اور فرمایا: ﴿وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ﴾ [سورة لقمان: 14] ”اور اس کے دودھ چھڑوانے کی مدت دو سال ہے“ اور فرمایا: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ [سورة البقرة: 233] ”مدتِ رضاعت چوبیس ماہ ہے اور مدتِ حمل چھ ماہ ہے۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا، اسے لوٹایا گیا تو پایا گیا کہ اسے رجم کر دیا گیا تھا، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔