حدیث نمبر: 15511
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَا: أنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا فَخَرَجَتْ تَجِدُ نَخْلًا فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَنَهَاهَا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " اخْرُجِي فَجُدِّي فَلَعَلَّكِ أَنْ تَصَّدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ⦗٧١٧⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: نَخْلُ الْأَنْصَارِ قَرِيبٌ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَالْجِدَادُ إِنَّمَا يَكُونُ نَهَارًا.
حافظ ثناء اللہ

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں۔ وہ نکلیں اور کھجوریں کاٹ رہی تھیں کہ انہیں ایک شخص ملا، اس نے انہیں منع کیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نکل جا اور کھجوریں کاٹ، شاید تو صدقہ کرے یا نیکی کرے۔“ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انصار کی کھجوریں ان کے گھروں کے قریب تھیں اور وہ صبح کو کھجوریں کاٹتے تھے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15511
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ 1483»