السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال: لا سكنى للمتوفى عنها زوجها باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک بیوہ کے لیے رہائش کا حق ثابت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15510
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " كَانَتْ تُخْرِجُ الْمَرْأَةَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا " قَالَ: فَأَبَى ذَلِكَ النَّاسُ إِلَّا خِلَافَهَا فَلَا نَأْخُذُ بِقَوْلِهَا وَنَدَعُ قَوْلَ النَّاسِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا عورت کو اس کی عدت میں ہی نکلوا دیا کرتی تھیں، اس کے خاوند کی وفات کی وجہ سے۔ قاسم بن محمد کہتے ہیں: اس کا لوگوں نے انکار کیا مگر اس کے خلاف، ہم اس قول کو بھی نہیں لیتے اور لوگوں کے قول کو ہم ترک کرتے ہیں اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔