حدیث نمبر: 15507
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ نا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، نا شَبَابَةُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] قَالَ: " كَانَتْ هَذِهِ الْعِدَّةُ تَعْتَدُّ عِنْدَ أَهْلِ زَوْجِهَا وَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهَا " فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ} قَالَ: " جَعَلَ اللهُ لَهَا تِسْعَةَ أَشْهُرٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَصِيَّةً إِنْ شَاءَتْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ} فِي الْعِدَّةِ كَمَا هِيَ وَاجِبَةٌ عَلَيْهَا، زَعَمَ ذَلِكَ مُجَاهِدٌ وَقَالَ عَطَاءُ عنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ثُمَّ نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهِ تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ فِي أَهْلِهِ أَوْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَلَا سُكْنَى لَهَا ⦗٧١٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ رَوْحٍ عَنْ شِبْلٍ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ وَرْقَاءَ.
حافظ ثناء اللہ

ابن ابی نجیح، مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] ”اور تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں، یعنی عدت گزاریں۔“
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ﴾ [سورة البقرة: 240]
”اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہو جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں، اپنی بیویوں کے لیے ایک سال کے خرچے کی وصیت (کر جائیں کہ) ان کو نہ نکالیں، اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی حرج نہیں ہے، جو وہ اپنے نفسوں کے سلسلے میں معروف طریقے سے کریں۔“
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے نو ماہ اور بیس راتوں کی وصیت مقرر کی ہے، اگر وہ چاہے تو اپنی وصیت کی جگہ میں رہے اور اگر چاہے تو خروج کر جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [سورة البقرة: 240] عدت کے بارے میں ہے جو اس پر واجب ہے، یہ مجاہد رحمہ اللہ کا گمان ہے۔
عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، پھر اس آیت «غَيْرَ إِخْرَاجٍ» نے اس کی عدت کو اس کے اہل کے ہاں گزارنا منسوخ کر دیا۔ وہ جہاں چاہتی ہو عدت گزارے۔ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر وہ چاہے عدت گزارے اپنے اہل میں یا اپنی وصیت کی جگہ میں اور اگر چاہے تو خروج کر جائے، یعنی اپنے خاوند کے اہل سے، اللہ تعالیٰ کے اس قول کو دلیل بناتے ہوئے: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ﴾ [سورة البقرة: 240] الیٰ آخر الآیۃ۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر وراثت آئی، اس نے رہائش کو منسوخ کر دیا، وہ عدت گزارے جہاں وہ چاہے اور اس کے لیے رہائش نہیں ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15507
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔5344»