السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: من قال: لا سكنى للمتوفى عنها زوجها باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک بیوہ کے لیے رہائش کا حق ثابت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ مُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، نا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، نا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {غَيْرَ إِخْرَاجٍ} [البقرة: ٢٤٠] " قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهَا أَوْ سَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ} قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنُسِخَ مِنْهُ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ.ابن ابی نجیح سے روایت ہے کہ عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس آیت نے اس کی عدت کو اس کے اہل کے پاس منسوخ کر دیا ہے۔ وہ عدت گزارے جہاں وہ چاہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] ہے۔ عطاء نے کہا: اگر وہ چاہے کہ عدت اپنے اہل کے پاس گزارے یا اس جگہ جس میں رہنے کی اس کو وصیت کی گئی ہے اور اگر وہ چاہے تو نکل بھی سکتی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی بنا پر: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ [سورة البقرة: 240] ”اگر وہ نکلنا چاہیں تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں ہے۔ اس میں جو وہ اپنے نفسوں کے بارے میں کرتی ہے“۔ عطاء نے کہا: پھر وراثت آئی اور اس نے رہائش کو منسوخ کر دیا، وہ عدت گزارے جہاں چاہے۔