السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: سكنى المتوفى عنها زوجها باب: بیوہ عورت کی رہائش کے احکامات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أنا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّتَهُ زَيْنَبَ بِنْتَ كَعْبٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا، سَمِعَتْ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكٍ أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ تَذْكُرُ أَنَّ زَوْجَ فُرَيْعَةَ قُتِلَ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَنْتَقِلَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَى أَهْلِهَا، فَذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهَا فِي النُّقْلَةِ، فَلَمَّا أَدْبَرَتْ نَادَاهَا فَقَالَ لَهَا: " امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ".یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ رحمہ اللہ نے ان کو خبر دی کہ ان کی پھوپھی زینب بنت کعب رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ میں نے فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن) سے سنا، وہ ذکر کر رہی تھیں کہ ان کا خاوند نبی ﷺ کے زمانے میں قتل کر دیا گیا اور وہ چاہتی تھی کہ اپنے خاوند کے گھر سے اپنے اہل کی طرف منتقل ہو جائے۔ اس نے ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو منتقل ہونے کے بارے میں حکم دیا۔ جب میں پلٹی تو نبی ﷺ نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”تو اپنے گھر میں رکی رہ، یہاں تک کہ ﴿کتاب اپنی مدت کو پہنچ جائے﴾ [سورة البقرة: 235]، یعنی عدت ختم ہو جائے۔“