حدیث نمبر: 15497
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ أَنَّ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ ⦗٧١٣⦘ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ وَأَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ " فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَنِي فَدُعِيتُ لَهُ قَالَ: فَكَيْفَ قلت: فَرَدَّدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي فَقَالَ: " امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ " قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ اپنی پھوپھی زینب بنت کعب رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں، انہوں نے آپ ﷺ سے اپنے اہل (بنی خدرہ) کی طرف پلٹنے کے بارے میں سوال کیا اور یہ کہ ان کا خاوند اپنے غلاموں کی تلاش میں نکلا جو بھاگ گئے تھے، یہاں تک کہ جب وہ قدوم کی جانب تھے وہ ان کو ملا، ان لوگوں نے اس کو قتل کر دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: ”کیا میں اپنے اہل کی طرف لوٹ سکتی ہوں؟ میرے خاوند نے مجھے کسی ایسے مکان میں نہیں چھوڑا جس کا وہ مالک ہو۔“ وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تو لوٹ سکتی ہے۔“ میں مڑی، یہاں تک کہ جب میں حجرہ میں یا مسجد میں پہنچی تو مجھے بلایا گیا یا میرے لیے حکم دیا گیا، مجھے آپ ﷺ کی طرف بلایا گیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو کیا کہتی ہے؟“ میں نے آپ ﷺ کے سامنے وہ قصہ دوبارہ دہرا دیا جو میں نے اپنے خاوند کے بارے میں ذکر کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنے گھر میں ٹھہری رہ، حتی کہ تیری عدت پوری ہو جائے۔“ فرماتی ہیں: میں نے چار ماہ اور دس دن اس میں (عدت) شمار کیے۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے میری طرف قاصد بھیجا اور مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تو میں نے انہیں خبر دی، انہوں نے اس کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15497
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»