السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: إلا أن يأتين بفاحشة مبينة وأن لها الخروج في الموضع الذي استثنى الله تعالى من أن تأتي بفاحشة مبينة وفي العذر باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 15496
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلَاثًا فَأَخَافُ أَنْ يَقْتَحِمَ عَلَيَّ قَالَ: " فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ يَكُونُ الْعُذْرُ فِي نَقْلِهَا كِلَاهُمَا، هَذَا وَاسْتِطَالَتُهَا عَلَى أَحْمَائِهَا جَمِيعًا فَاقْتَصَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ نَاقِلِيهِمَا عَلَى نَقْلِ أَحَدِهِمَا دُونَ الْآخَرِ لِتَعَلُّقِ الْحُكْمِ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الِانْفِرَادِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَقُلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَدِّي حَيْثُ شِئْتِ لَكِنَّهُ حَصَنَهَا حَيْثُ رَضِيَ إِذَا كَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَكِيلٌ بِتَحْصِينِهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی ہے اور میں ڈرتی ہوں کہ وہ مجھ پر حقارت کرے، آپ ﷺ نے اسے حکم دیا پھر وہ منتقل ہو گئیں۔